جام پور: محکمہ مال کو پرائیویٹ منشیوں نے پرغمال بنا رکھا ہے، ذرائع
جام پور میں محکمہ مال کا نظام عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا مرکز بن گیا ہے۔ پٹواری جہانگیر اپنی سیٹ پر موجود نہیں رہتا اور نہ ہی عوام کے کاموں میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کی غیرحاضری میں پرائیویٹ منشیوں کا ایک گروہ محکمے پر قابض ہو چکا ہے جو عوام سے مک مکا کرتے ہیں، معقولیت سے زیادہ فیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور سادہ لوح شہریوں کو ذلیل و خوار کرنے میں مصروف ہیں۔
جام پور میں محکمہ مال کا نظام عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا مرکز بن گیا ہے۔ پٹواری جہانگیر اپنی سیٹ پر موجود نہیں رہتا اور نہ ہی عوام کے کاموں میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کی غیرحاضری میں پرائیویٹ منشیوں کا ایک گروہ محکمے پر قابض ہو چکا ہے جو عوام سے مک مکا کرتے ہیں، معقولیت سے زیادہ فیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور سادہ لوح شہریوں کو ذلیل و خوار کرنے میں مصروف ہیں۔
محکمہ مال میں پرائیویٹ منشیوں کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر چکی ہے جو کھلے عام گوشوارے جاری کر رہے ہیں، فرد ملکیت کے کاغذات پر دستخط کر رہے ہیں اور سرکاری مہر کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ پٹواری کی آشیرباد سے ہو رہا ہے جو خود اپنے ذاتی کاروبار میں مصروف ہے اور عوام کے مسائل سے یکسر بے نیاز ہے۔
صورت حال صرف جام پور تک محدود نہیں۔ ملحقہ دیہات گڑھی سلطان شاہ، بستی رندان اور محمد پور نمبر دو میں بھی کم و بیش پچاس پرائیویٹ افراد پٹواری کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف غیرقانونی طور پر سرکاری دفاتر میں بیٹھے ہیں بلکہ سرکاری ریکارڈز کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جو نہ صرف مجوزہ قوانین کے خلاف ہے بلکہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے جس میں پٹوار خانوں میں پرائیویٹ افراد کی تعیناتی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ پرائیویٹ افراد کے ذریعے سرکاری ریکارڈز کی ہیرا پھیری شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مگر جام پور میں اس حکم کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ عوام کے جائیدادی ریکارڈ غیرمجاز افراد کے ہاتھوں میں ہیں، ڈیٹا کی حفاظت کا کوئی تصور نہیں ہے اور شہری اپنے ہی حق کے حصول کے لیے نجی اجارہ داروں کے رحم و کرم پر ہیں۔
یہ صورت حال محکمہ مال کے اعلیٰ افسران کی خاموش منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پرائیویٹ منشیوں کے پیچھے محکمے کے کچھ بااثر افسران بھی ہیں جو اس غیرقانونی کاروبار میں حصہ دار ہیں۔ عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے، انہیں جان بوجھ کر الجھا کر رکھا گیا ہے تاکہ ان کا استحصال جاری رہے۔
جام پور کے عوام کی ارباب اقتدار سے پرزور اپیل ہے کہ ان غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم نامے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، پرائیویٹ منشیوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور پٹواری جہانگیر کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ محکمہ مال کو پرائیویٹ اجارہ داری سے آزاد کراکر عوامی خدمت کے اصل مقصد کے مطابق کام کرنے پر مجبور کیا جائے، ورنہ یہ ظلم و زیادتی کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔