راجن پور : چائلڈ لیبر اور انسانی سمگلنگ کے حوالے سے اہم اجلاس
حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ضلع راجن پور میں انسانی حقوق اور لیبر قوانین کے تحفظ کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینیو ظہور حسین کی صدارت میں ہونے والے اس ڈسٹرکٹ ویجی لینس کمیٹی کے اجلاس میں باونڈڈ لیبر، چائلڈ لیبر اور انسانی سمگلنگ جیسے اہم معاملات پر جامع طور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر راجن پور میاں جہانگیر، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر، بٹھہ جات ایسوسی ایشن کے نمائندے، سماجی تنظیموں کے ارکان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
راجن پور (کرائم رپورٹر)حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ضلع راجن پور میں انسانی حقوق اور لیبر قوانین کے تحفظ کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینیو ظہور حسین کی صدارت میں ہونے والے اس ڈسٹرکٹ ویجی لینس کمیٹی کے اجلاس میں باونڈڈ لیبر، چائلڈ لیبر اور انسانی سمگلنگ جیسے اہم معاملات پر جامع طور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر راجن پور میاں جہانگیر، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر، بٹھہ جات ایسوسی ایشن کے نمائندے، سماجی تنظیموں کے ارکان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ظہور حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع راجن پور میں کسی بھی جگہ باونڈڈ لیبر کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آنا چاہیے۔ انہوں نے محکمہ لیبر کے افسران پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے دوروں اور معائنوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ہوٹلوں، ورکشاپوں اور دیگر دکانوں پر چھوٹی عمر کے بچوں کو کام پر نہ لگایا جائے، بلکہ ان تمام بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ ان کی تعلیم کا حق یقینی بن سکے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر میاں جہانگیر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع راجن پور میں فی الحال باونڈڈ لیبر کا کوئی تصدیق شدہ کیس ریکارڈ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹلوں، ورکشاپوں اور بٹھہ جات (جہاں اون کا کام ہوتا ہے) پر مسلسہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ گزشتہ ماہ محکمہ لیبر کی جانب سے کل 91 انسپکشنز کی گئیں، جن کے نتیجے میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی پر 5 ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری ہے۔
تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ضلع راجن پور میں چائلڈ لیبر سے بچائے گئے یا خطرے سے دوچار بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کے لیے "صبح نو" اسکول سسٹم کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں 94 بچوں کو صبح نو اسکولوں میں داخل کرایا جا چکا ہے۔ ضلع میں اس وقت صبح نو کے تحت کل چھ اسکول فعال ہیں، جن میں سے دو اسکول جام پور میں اور چار اسکول روجھان میں کام کر رہے ہیں۔ ان اسکولوں کا مقصد ایسے بچوں کو بنیادی تعلیم اور ہنر سکھانا ہے تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد فرد بن سکیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محکمہ لیبر، پولیس، سماجی تنظیموں اور مقامی انجمنوں کے درمیان مربوط کوششوں سے ہی چائلڈ لیبر اور باونڈڈ لیبر جیسے سماجی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کمیٹی نے عزم کیا کہ ضلع کو چائلڈ لیبر سے پاک بنانے کے لیے آگاہی مہموں کو بھی تیز کیا جائے گا اور والدین کو بچوں کی تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے گا۔