:پٹواری نظام میں کرپشن کے طریقہ کار، اثرات اور تدارک کی تجاویز
زمینی ریکارڈز کا نظام، خاص طور پر پٹواری کلرکی، ملک کے ریونیو انتظامیہ کا ایک اہم حصہ ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ، اس نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی نے جڑ پکڑ لی ہے، جس کا اثر نہ صرف قومی خزانے پر پڑتا ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ رپورٹ اس بدعنوانی کے طریقہ کار، اس کے اثرات، اور ممکنہ تدارک کے اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے۔
1. جائیداد کی کم قیمت درج کرنا (انڈرویلویشن):
جب کوئی زمین کی خرید و فروخت رجسٹرڈ ہوتی ہے یا گوشوارہ (مطالعات) تیار کیا جاتا ہے، تو پٹواری زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو سے کہیں کم قیمت درج کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خریدار کو ٹرانسفر ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی کی صورت میں کم ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ پٹواری اس "خدمت" کے بدلے خریدار یا فروخت کنندہ سے بڑی رقم رشوت کے طور پر وصول کرتا ہے۔ نتیجتاً، حکومت کو ہونے والا ٹیکس کا نقصان اکثر لاکھوں روپے تک ہوتا ہے، جبکہ رشوت کی رقم اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔
2. نظام کو جان بوجھ کر غیر کمپیوٹرائزڈ رکھنا:
بہت سے علاقوں، خاص طور پر شہری یا نیم شہری آبادیوں کو، "دیہی" قرار دے کر ابھی تک دستی ریکارڈز (نان کمپیوٹرائزڈ) کے نظام میں رکھا گیا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ نظام میں تبدیلیاں کرنا مشکل ہوتا ہے اور ہر عمل کا ڈیجیٹل سراغ رہتا ہے۔ دستی رجسٹروں میں، پٹواری آسانی سے صفحہ بدل سکتا ہے، اندراجات میں ردوبدل کر سکتا ہے، یا نئی فائلیں بنا سکتا ہے۔ یہ غیر شفاف نظام بدعنوانی کو فروغ دیتا ہے۔
3. فرضی یا غلط تقسیم (بٹوارہ) کے کیسز:
وراثت میں ملنے والی زمین کو تقسیم کرتے وقت، پٹواری رشوت لے کر کسی فریق کو زیادہ رقبہ الاٹ کر سکتا ہے، یا غیر موجودہ وارثوں کے نام ڈال سکتا ہے۔ بعد میں ان غلط اندراجات کو "درست" کروانے کے لیے مزید رشوت طلب کی جاتی ہے۔
4. "خانہ بندی" یا خالی زمینوں کا غلط استعمال:
سرکاری یا دیہاتی مشترکہ زمین (جیسے گزریا، نہر کے کنارے کی زمین، سڑک کے کنارے) کو پرائیویٹ افراد کے نام منتقل کرنے میں مدد کرنا۔ یہ زمینیں اکثر کم قیمت پر یا بلا معاوضہ "الاٹ" کر دی جاتی ہیں، جبکہ پٹواری اس کام کے بدلے بھاری رشوت وصول کرتا ہے۔
5. دستاویزات کو روکنا یا تاخیر کرنا:
اگر کوئی شہری رشوت ادا کرنے سے انکار کر دے، تو پٹواری اس کے کام میں جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ فائل "گم" کر دی جاتی ہے، افسران کے پاس بھیجنے میں تاخیر کی جاتی ہے، یا کاغذات میں معمولی خامیاں نکال کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اس دباؤ کے ذریعے رشوت حاصل کی جاتی ہے۔
6. بالائی افسران سے ملی بھگت:
یہ کرپشن اکثر اکیلے پٹواری تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کا ایک حصہ تعلقہ دار (Tehsildar)، نائب تعلقہ دار (Naib Tehsildar)، اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے افسران تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ ان کی خاموشی یا تعاون حاصل رہے۔ یہ سلسلہ بعض اوقات انتہائی بلندی تک جاتا ہے، جس سے پورا نظام ایک مافیا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اثرات:
· قومی خزانے کو نقصان: ٹیکس کی بچت کا براہ راست نقصان، جو کروڑوں، اربوں روپے سالانہ ہو سکتا ہے۔
· غریب اور ان پڑھ شہریوں کا استحصال: جو لوگ نظام کو نہیں سمجھتے یا رشوت دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ اپنے جائز حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں یا انہیں بے تحاشہ پیسہ دینا پڑتا ہے۔
· قانونی جھگڑوں میں اضافہ: غلط اندراجات کی وجہ سے زمینوں کے مالکانہ حقوق پر تنازعات پیدا ہوتے ہیں، جو دہائیوں تک عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں۔ خاندانوں میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔
· ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ: درست زمین کے ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے انفراسٹرکچر، سڑکوں، یا دیگر ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد مشکل ہو جاتا ہے۔
· حکومت پر عوامی اعتماد کا فقدان: نظام کی بدعنوانی سے شہریوں کا حکومتی اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
تدارک کے لیے تجاویز:
1. مکمل اور شفاف ڈیجیٹلائزیشن:
· تمام زمینی ریکارڈز، بشمول شہری اور دیہی، کو ایک مرکزی آن لائن ڈیٹا بیس میں منتقل کیا جائے۔
· ہر پلاٹ/کھیت کا ایک منفرد شناختی نمبر (ID) ہو، جس سے اس کی مکمل تاریخ (مالکان، خرید و فروخت، ٹیکس) دیکھی جا سکے۔
· زمین کی خرید و فروخت کا تمام عمل آن لائن ہو، جس میں قیمت کا تعین خود کار طریقے سے متعلقہ علاقے کے مارکیٹ ریٹس کے مطابق ہو۔
2. آٹومیشن اور انسانی مداخلت کو کم کرنا:
· ٹیکس اور ڈیوٹی کا حساب سسٹم خود لگائے۔
· دستاویزات کی پرنٹنگ اور رجسٹریشن کا عمل بھی آٹومیٹڈ ہو۔
· پٹواری کا کردار صرف فیلڈ میں تصدیق اور سرحدوں کی نشاندہی تک محدود ہو، مالی یا رجسٹریشن کے فیصلوں میں اس کی کوئی ذاتی صوابدید نہ ہو۔
3. سخت نگرانی اور جوابدہی:
· زمینی ریکارڈز محکمے کا باقاعدہ آڈٹ آزاد اداروں (جیسے آڈٹر جنرل) کے ذریعے ہو۔
· ہر تبدیلی کا ڈیجیٹل لاگ ریکارڈ رکھا جائے، جس میں یہ بھی درج ہو کہ کس نے تبدیلی کی۔
· نجی شعبے یا سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل نگرانی کمیٹیاں قائم کی جائیں۔
4. شکایات کے لیے موثر اور محفوظ نظام:
· ایک مرکزی، آن لائن شکایت پورٹل ہو، جہاں شہری بلا خوف و خطر شکایت درج کرا سکیں۔
· شکایات کی کارروائی کا دورانیہ مقرر ہو اور شکایت کنندہ کو اس کی صورت حال پر آن لائن اپ ڈیٹ ملتی رہے۔
· جھوٹی شکایت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا واضح قانون ہو۔
5. آگاہی اور تربیت:
· عوام میں زمینی ریکارڈز کے ڈیجیٹل حقوق اور طریقہ کار کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جائے۔
· پٹواریوں اور متعلقہ عملے کو نئے ڈیجیٹل نظام اور اخلاقیات کی تربیت دی جائے۔
6. فوری قانونی کارروائی:
· کرپشن کے ثابت شدہ مقدمات میں سخت سزاؤں کا نفاذ، جس میں ملازمت سے برطرفی، جرمانہ، اور قید شامل ہو۔
· کرپشن کی مالیت کو ضبط کرنے اور حکومتی خزانے میں واپس لانے کا طریقہ کار ہو۔
اختتامی نوٹ:
پٹواری نظام کی بدعنوانی صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ناانصافی ہے جو معیشت، انصاف کے نظام، اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے ٹیکنالوجی، قانونی اصلاحات، اور سیاسی عزم کے مضبوط امتزاج کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت، خاص طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب، کی طرف سے اس مسئلے پر فوری توجہ اور سخت اقدامات نہ صرف قومی خزانے کو بچائیں گے، بلکہ عام شہری کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔