روحانی و سماجی احساسات کی عکاس: روجھان شہر کی صورت حال کا جامع جائزہ
سال 2025، روجھان شہر اور اس کے عوام کے لیے مایوسی، ناامیدی اور تعطل کا سال ثابت ہوا۔ اب جبکہ 2026 کا سورج طلوع ہوچکا ہے، بدقسمت روجھان کی قسمت کے اجالے کا انتظار ابھی باقی ہے۔ شہری ترقی اور خوشحالی کے خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے محروم رہے۔
ترقیاتی منصوبوں کا جمود: ایک المیہ
سابقہ حکومت کے دور میں شروع کیے گئے متعدد اہم اور فلاحی منصوبے، جن میں دریائی پختہ پل کے لیے سپر بند، اپروچ روڈ، گرلز کالج، ووکیشنل ٹریننگ کالج، نیز بیرونی وارڈز (شاہوالی، عمرکوٹ، کوٹ مٹھن وغیرہ) تک سوئی گیس کی فراہمی شامل تھے، فنڈز کی عدم دستیابی اور حکومتی عدم توجہ کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔ ان بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تاخیر نے عوام کو سفری اور معاشی مشکلات کے ایک نئے دور میں دھکیل دیا ہے۔
شہری بنیادی ڈھانچے کا زوال
روجھان شہر کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے زبوں حالی کا شکار ہے۔
شہر کا مرکزی رابطہ، "چوک روجھان روڈ"، کی تعمیر کا آغاز تک نہ ہو سکا۔
اندرون شہر ٹوٹی پھوٹی اور غیر متوازن سڑکیں، ٹوٹے ہوئے سیوریج ہول اور سٹریٹ لائٹ کا فقدان شہری زندگی کو مشکلات سے دوچار کر رہا ہے۔
بیرونی وارڈز میں سڑکوں اور نکاسی آب کا مناسب نظام مفقود ہے۔
نتیجتاً، ایک صدی پرانا یہ شہر ایک جدید کھنڈر کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
معیشت اور روزگار پر بحران
دریائے سندھ کے سیلاب نے کاشتکاروں اور تاجروں کی کمر توڑ دی، جس سے پورے خطے کی معیشت متاثر ہوئی۔
نوجوانوں کی بھرتیاں جامد ہیں، جبکہ موجودہ ملازمتوں میں کمی کے باعث خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ بے روزگاری ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
"صاف ستھرا پنجاب" جیسے صوبائی سطح کے منصوبوں کے فوائد، جیسے گرین بسیں، روجھان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
سفر کی صعوبتیں: ایک المناک حقیقت
عوام کو رحیم یار خان تک کے قریباً تین گھنٹے کے سفر کے لیے پرانی اور غیر آرام دہ ویگنز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو نہ تو مسافروں کے لیے محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کے سامان کے لیے۔ یہ سفر ایک عذاب بن چکا ہے۔ دریائی پختہ پل کی تعمیر سے یہ سفر ایک گھنٹے میں طے ہو سکتا تھا، مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
تعلیم اور خود مختاری کے خواب ادھورے
لڑکیوں کے لیے سرکاری کالج کے فقدان میں، انہیں مہنگے نجی اداروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
ووکیشنل کالج کے عدم اجراء نے خواتین اور نوجوانوں کو ہنر مند بننے اور خود مختار ہونے کے مواقع سے محروم رکھا ہے۔
کچھے کے علاقوں کی نظر اندازی
کچھے کے علاقوں میں امن اور ترقی کا سفر ابھی تک خواب ہی ہے۔ وہاں تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی ہے۔
امید اور دعا: 2026 کے لیے آواز
سال 2026 کے آغاز پر، روجھان کی عوام کی یہی دُعا اور اُمید ہے کہ یہ سال ترقی، خوشحالی اور امن کا پیغام لے کر آئے۔ شہر کی قسمت بدلنے کے لیے ایک معجزہ، ایک مسیحا کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
کاش روجھان کے شہری جدید گرین بسیں اور کھلی ہوئی کوچز میں سفر کر سکیں۔
کاش روجھان کی بیٹیاں سرکاری گرلز کالج میں مفت تعلیم حاصل کر سکیں۔
کاش بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔
کاش چوک روجھان کا سفر آسان ہو جائے۔
خداوندا! میرے شہر کی قسمت بدل دے۔ کوئی معجزہ، کوئی مسیحا رونما فرما۔